Sunday, February 18, 2018

وزیر اعلیٰ بلوچستان اور کُھلی کچہری


وزیر اعلیٰ بلوچستان اور کُھلی کچہری
جب بھی دل کرتاہے قلم کی سیاہی کسی کے نام کروں تو کُچھ عظیم لوگوں کے اچھے اچھے کلام ذہن میں آ جاتے ہیں جیسا کہ کیا خوب فرمایا جناب شاعر کفیل نے
میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا اُن سے
بات نکلے گی تو پھر دُور تلک جائے گی
 یہ سیاست بھی کیا کمال شے ہے جس کے پیچے چلتے چلتے آج میں بلوچستان میں تیسرا وزیر اعلیٰ دیکھ رہا ہوں۔جو کہ  میر عبدالقدوس بزنجو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔جناب عزتمآب کا تعلق بلوچستان ءِ پسماندہ علاقے آوران سے ہے اور مسلم لیگ(ق) سے سیاسی تعلق رکھتے ہیں۔اِس سرکار میں بلوچستان نے دو وزیر اعلیٰ بدل کرکے  تاریخ  رقم کر دی۔ وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے آتے ہی سیاست اور بلوچستان کی ترقی کو ایک نئے رنگ اور خیال سے سوچنے لگا شاید وہ خوش فہمی بھی کہوں تو غلط نہیں۔ایک تو سیاست نے عوام کے دل و دماغ پر کُچھ ایسی عکاسی کی ہے کہ لوگ ہر اچھے چیز کو بھی دکھاوا کا نام دے کر دل ہی دل میں خود کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسا کیوںکر ہے؟ وجہ تو ثابت کرنا ضروری نہیں کیوںکہ آج ہر کوئی جانتا ہے کہ دکھاوا بھی ہو رہا ہے لیکن ہم نے سب کو دکھاوے کی راہ پر گامزن دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ جس طرح سوشل میڈیا پر ہمارے وزیر اعلیٰ جناب میر عبدالقدوس بزنجو کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ یہ اگلے الیکشن کے لیے کُچھ تو کام کرے گا تاکہ اگلے حکومت کے لیے اچھے نتائج اخذ کرسکے ۔میرا تو کسی سے ذاتی اختلاف نہیں لیکن اختلاف رائے میرا آئینی حق ہے اور اِس حق سے مجھے کوئی محروم نہیں کرسکتا۔اِس سرکار میں کُچھ ایسے اقدامات کیے گئے کے اُن سے عوام کو فائدہ تو ہو رہا ہے جس طرح سے بھتہ خوری کے خلاف ایکشن لیا گیا اور کُچھ ترقی کے کام کئے جارہے ہیں وغیرہ لیکن سرکار کی کمزوری بھی سب کے سامنے آرہی ہے۔ میں بات وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کھلی کچہری کے بارے میں کر رہا ہوں میں اسے تنقید تو نہیں کرتا کہ وزیر اعلیٰ صاحب نے غلط قدم اُٹھایا ہے اُن کا علم میرے علم سے تو کہیں زیادہ ہے پر اِسے عمل کو میں آج بھی اور آئے دنوں سرکار کی کمزوری سمجھوں گا کیونکہ کُھلی کچہری اِس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ بلوچستان کے سرکاری اداروں میں وہ جان نہیں رہی جو کسی مسئلے کو باآسانی اپنے اختیار سے حل کرسکیں یا پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کے سرکاری ادارے کرپشن کی اِس طرح لپٹ میں آچُکے ہیں کے اُن کو نکالتے نکالتے کئی سال لگ جائیں۔ اس لئے شاید یہ کُھلی کچہری کا عمل طے پایا ہے لیکن جو میں سوچتا ہوں وہ یہ کہ  سرکاری اداروں پہ ہمارے وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو کو یقین ہی نہیں اِس لیے لوگوں کے مسائل خود اُنہی عوام کے مُنہ سے سن کر اُن پہ عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آئندہ انتخابات میں بھی ہم ایسے وزیر اعلیٰ کے خواہاں ہیں پر یہ کُھلی کچہری سے گریز کرکے اداروں کو صحیح معنوں میں اُن کی ذمہ داریاں دی جائیں اور اُنہیں حاضر یقینی بنایا جائے تاکہ لمبی لائن میں کھٹرے ہو کر وزیراعلیٰ سے ملنے کی بجائے ہر کام باآسانی ہو۔ وزیراعلیٰ صاحب کا تو فرمان یہ بھی ہے کہ ہر ضلع میں ڈی سی ہر ہفتے کُھلی کچہری لگائیں اِس بات پہ اتفاق کرنا جائز ہے کیونکہ ادارے ادارے سے مل کر مسائل کو حل کرسکتے ہیں اور یہ بہتریں طریقہ بھی ہوسکتا ہے اگر اِس پر عمل کیا جا سکے ہمارے ہاں تو اکثر یہ نظام ہے کہ رات گئی بات گئی ۔ جو ہُوا سو ہُوا۔ 


لالا صدیق بلوچ، ایک مہربان استاد

https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjzoY4ALgACQk66jomJFG6pSIQegVwNM785Lh-K_uJ5UkZi2Z3-elSz4mtr30MHxwsjV0oae94EKhzynJ3HaNsMCB89hVJ3979jql3YX4b-ihtySJ7msR6I5q1lKo68FBJUpUIaC9I-wkc/s320/siddiq-baloch...jpg
کوئٹہ کی ایک یخ بستہ صبح، بروز منگل 6 فروری 2017 بھری نیند میں تھا کہ اچانک سے سیل فون کی گھنٹی کانوں میں کہیں دُور بج رہی تھی، تب نیند چھوڑ کر جاگنا پڑا۔ جب تک میں اُٹھا، فون کی بیل بند ہو چکی تھی۔ لیکن بیل بند ہونے کے ساتھ ایک میسج کی آمد سے بہت ہی دل رنجیدہ پیغام موصول ہُوا، جس کو پڑھ کر میں ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا اور بار بار اُسی میسج کو پڑھنے لگا۔
میسج کُچھ یوں درج تھا:
جناب دوست! لالا صدیق بلوچ اب ہمارے درمیان نہیں رہے، اُن کا انتقال ہو چُکا ہے۔
اس میسج پر بھروسہ ہی نہیں ہو رہا تھا۔ میں حیران تھا اور سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اچانک سے یہ کیا ہوگیا۔ فوراً ہی اپنے فیس بک کی ٹائم لائن پر جا کر معلومات لینا شروع کی تو صرف انہی کا نام اور تصویر دیکھنے کو ملے۔
انسان جب زندہ ہمارے درمیان ہوتا ہے تو ہم کبھی بھی اُس سے دور ہو جانے یا اُن کے بچھڑ جانے کا تصور نہیں کر پاتے، پر جب جُدا ہو جاتے ہیں تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ ایسا ہی تھا ہمارا رشتہ۔ ماس کمیونیکیشن کے تمام طلبا بشمول میں لالا بلوچ سے بہت متاثر تھے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں آزادی رائے کو ہمیشہ ترجیح دی تھی اور میڈیا پر بندش و آمریت خلاف بولتے رہے۔
مجھے یاد ہے، میری لالا سے ملاقات ڈیلی آزادی اخبار کوئٹہ کے ہیڈ آفس میں ہُوئی، جہاں وہ اپنی نشست سنبھالے ہُوئے تھے۔ یہ سال 2016 تھا۔ جب میرا ایم اے میڈیا اینڈ جرنلزم کا پہلا سال شروع ہو چُکا تھا۔ بہت شوق تھا لکھنے، پڑھنے کا اور آج بھی ہے۔ لالا بلوچ کا پوتا بیبرگ بلوچ جو کہ میرا خاص دوست ہے، اُس نے ملایا مجھے اس معروف شخصیت سے؛ 18 مئی 2016 کی شام۔
میرا پہلا لکھا آرٹیکل اسی ڈیلی آزادی کوئٹہ اخبار میں 21 مئی 2016 کو شائع ہُوا جس کا عنوان تھا؛ "لہو سے گھرا ہُوا ہوں”۔ بہت ہی کم الفاظ پر مشتمل یہ آرٹیکل، جسے میری حوصلہ افزائی کے لیے شائع کیا گیا تاکہ میں آنے والے دنوں اور بھی محنت کر سکوں۔ لالا صدیق بلوچ کا اپنی زبانی یہ کہنا تھا مجھ سے کہ بیٹا لکھو، زیادہ سے زیادہ لکھو لیکن کوشش کرو سوشل ایشوز پر اپنے معاشرے کے مسائل کو سامنے لا کر اُن پر اپنے خیالات کا اظہار کرو تاکہ سب لوگ پڑھیں اور جان سکیں ہمارے مسائل کیا ہیں۔
یہ الفاظ جو 2016 میں مجھے لالا صدیق بلوچ نے بتائے، اُنہی کے بیٹے جناب آصف بلوچ نے بھی مجھے یہی باتیں کہیں اور لکھنے کا مشورہ دیا۔ لالا صدیق بلوچ اب ہمارے ساتھ نہیں رہے لیکن وہ جو سوچ وہ ہمارے درمیان چھوڑ کر گئے ہیں ہمیں اُس کا خاص خیال رکھنا اور اس پہ عمل کرنا ہوگا۔
صحافت کی دُنیا میں وہی میرے پہلے اُستاد رہے ہیں جن سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ لالا صدیق بلوچ کا سیاسی اور صحافتی دنیا میں بہت ہی خاص اور آزاد کردار رہا ہے۔ اُن کا اپنا کہنا تھا کہ، "موت کے خوف سے سیاسی سوچ نہیں بدل سکتا”۔ اور آپ نے بالکل ویسا ہی کیا۔ ہمیشہ سچ کو سامنے لا کر تمام مسائل سے عوام کو آگاہی دیتے رہے۔


Sunday, July 23, 2017

پی ٹی وی کوئٹہ سے فن کاروں کو کیا شکایت ہے؟



پاکستان کا سب سے پہلا ٹیلی کاسٹ نیٹورک چینل پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) 26 نومبر 1964 کو وجود میں آیا. پی ٹی وی شروع میں نجی انتظامیہ کی زیرنگرانی میں تھا. 6 سال بعد 1970 میں یہ قومی کاری پروگرام میں سرکاری ملکیت کے تحت ضم کیا گیا. بیسویں صدی اور اکیسویں صدی کے شروعات تک پی ٹی وی نے میڈیا کی دُنیا میں اک اچھا نام بنایا جو کہ بیروں ممالک میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا.
26 نومبر 1964ء میں اس کا افتتاح خود صدر ایوب خان نے کیا. پھر 25 دسمبر 1964ء کو ڈھاکہ میں قائم ہوا جو کہ اب بنگلہ دیش کا دارالحکومت ہے، اُس وقت مشرقی پاکستان ہوا کرتا تھا. تیسرا پی ٹی وی کا مرکز 1965ء کو راولپنڈی میں بنا. اسی طرح چوتھا 1966 ء کو کراچی میں قائم کیا گیا. 1971 ء میں (پاک و ہند) جنگ کے بعد، پی ٹی وی کو قومیایا گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے سرکار کی ملکیتی انتظام کے تحت مکمل طور پر لے لیا.
شروع میں یہ بے رنگ تھا. پھر جا کر 1975ء کو پی ٹی وی کی رنگین نشریات شروع ہوئیں. اس کے پہلے مینیجمنٹ ڈائریکٹر اسلم اظہر تھے. اسی طرح پی ٹی وی اپنی برقرار نشریات کرتا رہا اس میں فلم بھی آنی لھیں اور آگے جا کر ڈرامے بھی نشر ہوئے.1970 کی دہائی سے لے کر 1990 تک اس کے ڈراموں نے اک اچھا نام کمایا اور یہ بیسٹ سیریلز تھے. جب نجی میڈیا اداروں کی آمد ہوئی اور لوگوں کو نئی چیزیں دیکھنے کو ملیں تو لوگ اُن کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوئے اور پی ٹی وی کا درجہ کم ہو گیا جس کی وجہ سے پی ٹی وی اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے بعد بُہت کم لوگوں کی دلچسپی کا محور رہ گیا. پی ٹی وی کے اسٹیشنز 1974ء میں کوئٹہ اور پشاور میں بھی قائم کیے گئے.
یہاں تک تو اس کی تاریخ تھی. وہ اک زمانہ تھا کہ جب پی ٹی وی سے ایوب کھوسو کی شکل میں ایسے فن کار سامنے آئے جنہیں دُنیا نے جانا اور پہچانا. یہ ایک ایسا وقت تھا جب پی ٹی وی پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک فن مظاہرہ کا اچھا مرکز بن چُکا تھا.
اب میں نے ایک دو دن قبل اِیک کالم کہوں یا رپورٹ کہوں مشرق وجنگ اخبار میں دیکھی جو کہ کوئٹہ بلوچستان کے پی ٹی وی کے جنرل منیجر عطااللہ بلوچ کو شکایت کی صورت لکھی گئی تھی. اس میں کہا گیا کہ "پی ٹی وی کوئٹہ کے جنرل منیجر کے رویے کے خلاف نوٹس لیا جائے: اداکارہ پاکیزہ خان”.
تین چار دن تک یہی سلسلہ چلا اور اگلے دن پریس کانفرنس بھی ٹیلی وژن پر اتفاقآ میری نظر سے گُزری، تو دیکھ لیا. اُس میں ملک کی معروف اداکارہ فلم "مالک” فلم کی ہیروئن پاکیزہ خان، شاہین علی زئی اور شمشیر میوند پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے. ایسا کہا جا رہا تھا کہ "سرکاری ٹی وی چینل پر اقربا پروری ہو رہی ہے، من پسند فن کاروں کا قبضہ ہے.”
حالاں کہ تاریخ گواہ ہے کہ پی ٹی وی میں کوئی تعصب کا نام نہیں ہوا کرتا تھا. آج وہاں پہ پشتوں بلوچ کے نام پر چیک رُکوائے جا رہے ہیں. پاکیزہ خان اور دیگر ہونہار فن کاروں کو چار قدم پیھچے دھکیلنے کی کوشش ہو رہی ہے. میں آج ان محترم عہدیداروں سے یہ سوال کرتا ہوں کہ آخر کیوں کر پی ٹی وی میں ایسی حرکت سامنے آئی جس کو تعصبانہ رویے کا نام دیا جائے؟ ایسی چیزوں کا احتساب ہونا چاہیے. نئے فن کار و اداکار ہمیں چاہئیں،ں بشمول پرانوں کے، نہ کہ نئے اپنی پسند سے سامنے لا کر پرانوں کو احساس کمتری کا شکار بنا کر اُنہیں یک طرف کیا جائے. جیسا پی ٹی وی اکیسویں صدی سے پہلے تھا، ہمیں وہ پی ٹی وی چاہیے.

https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiwOM84itZGN2pEanqRCnDpJWFrQK1pi-2RfjYJw09wGTwtivL2fbKCk5eETZfyVaSr6b74cENmfhL7KlRkFxQ_BnLsqymxO3AMSzAKFknD7Ol0ODvEppPCS5mQiJLSXxIdpUc-LoQDmBM/s320/ptv-1.jpg



Wednesday, July 19, 2017

کرپشن کا عروج


کرپشن کا عروج

دوست جان نور

چند الفاظ ہی شاید کافی تھے اِن کو سمجھانے کو پر کریں تو کیا کریں کیوں کہ سرکار جو پی ایم ایل این کی ٹھری جہاں اپنے ہی خیراتی ادارے کو خود ہی فنڈ پاس کروا کر اپنے جیب میں پیسے رکھ کر پھر اُن کو کنٹریکٹ میں محفوظ نہیں کیا کرتے، اس بات کی حیرت تو ہوگی سب کو جیسے مجھے ہوئی.
میں آج ٹیلی وژن کو اپنا قیمتی وقت دے کر اُس سے کچھ فوائد حاصل کر رہا تھا کہ مجھے اسحاق ڈار کے بارے میں ایک رپورٹ دیکھنے کو ملی جس میں یہ تھا کہ اسحاق ڈار صاب جو کہ وزیر خزانہ ہیں اُنہوں نے یہ عمل کیا ہے کہ اپنے خیراتی ادارے کو فنڈ پاس کیا ہے. اِس بات کو سُننے کہ بعد جناب کو یہ بات راس نہ آنے کی وجہ سے وہ بھڑک گئے اور اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ رپورٹ جھوٹی ہے اور میں دلیل پیش کروں گا سپریم کورٹ میں، کبھی جے آئی ٹی کبھی پانامہ کبھی یہ کبھی وہ ہم تو حیران ہیں کہ ہم کیا کریں.
صرف بلوچستان میں ہم نے دیکھا کہ جب فنانس سیکریٹری مُشتاق رئیسانی کی رہائش گاہ پر نیب کا چھاپہ پڑا تو وہاں سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے جو کہ قریباُ پچھتر کروڑ تک تھے تو اُن کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی گئیِ اُس کے بعد فائنانس منسٹر کو بھی اسی کرپشن کیس پہ گرفتار کیا گیا. اِس الزام کی وجہ سے وزیر خزانہ بلوچستان میر خالد خان لانگو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے اور اپنی بے گُناہی کے دعوے کرتے رہے.
اسی طرح کا ایک کیس جب پانامہ کی صورت میں سامنے آیا تو کسی میں ملزمان کو گرفتار کرنے کی ہمت نہ تھی. عمران خان نے سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کروائی اور کہا کہ نواز شریف نے منی لانڈرنگ کر کے ملک کے پیسے بیرون ممالک میں پہنچائے ہیں، تو اس بات پر سپریم کورٹ نے غور و فکر کرنا شروع کی اور اس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ میں اس کے فیصلے کے لیے پانچ جج تھے جن میں سے دو ججوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا اور اُسے بالکل ہی نااہل قرار دیا تو سپریم کورٹ کا یہ غیر جانب دارنہ فیصلہ انجام نہ پایا اور اس کی بنیاد پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی اور اُس کو ساٹھ دن تک نتیجہ اخذ کرنے کا حکم دیا.
جے آئی ٹی نے اپنے ساٹھ دن کے دورانیہ میں وزیر اعظم سمیت ان کی فیملی کو بلا کر اُن سے سوالات کیے. جس کے بعد دس جولائی کو اُنہوں نے سپریم کورٹ میں اپنا نتیجہ پیش کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ نواز فیملی نے غلط دلائل پیش کیے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ کی بُنیاد پر ہیں….
تو یہ ہے میرا ملک جہاں پاناما کیس کے بعد بھی پاک ہونے کا دعویٰ ہوتا ہے. ایسے وزیر اعظم کی زیر نگرانی ملک چل رہا ہے جس پر کرپشن کے لاتعداد الزامات ہیں. ہم صرف احتساب رقومات کا نہیں بلکہ ہم احتساب ہر چیز کا چاہتے ہیں جس طرح اسحاق ڈار صاب نے کہا کہ میں سوئی سے لے کر مرسڈیز تک سب چیزوں کا حساب سپریم کورٹ میں پیش کروں گا، اسی طرح ہم یہی اپیل کرتے ہیں کہ ہم عوام کے سامنے بھی ہر چیز صاف ہو کہ کون کیا کر رہا ہے اور کون کیا کرنا چاہتا ہے.
http://haalhawal.com/dost-jan-noor/corruption-2/


Wednesday, June 14, 2017

2018 کے انتخابات کا منظر نامہ

https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjFh1FOxxoX3B5BCdFhvDdWp3_UrFi1BwhqIPY3ycnp4jbJL-P2WahAedDiIyITDkF_TegDHBd91AnQXm6SESu15YvFib7eaNbhJsfTYtW9_jlZIkJqam0YSewo81JL43X1Hfm1_DXewQE/s320/election-box.jpg
دوست جان نور
اس کرہ عرض پر ہر ملک کو بہتری اور ترقی کی جانب گامزن کرنے کے لیے ہر ملک کا اپنا آئینی نظام ہوتا ہے.کچھ ممالک بادشاہت سے وابستہ ہیں تو کچھ انتخابات سے اپنے اس سیاسی عمل کو صدیوں سے برقرار رکھے آرہے ہیں.
ایسا بھی اک ملک ہے, ممالک تو بہت ہیں پر اس کو دیکھنے کے بعد اس کی بارے میں اظہار کرنا اپنا فرض سمجھوں گا. ملک جو کہ سلطنت آف عُمان کے نام سے جانا جاتا ہے . سلطان قابوس بن سعید آل سعید 47 سال سے اپنی سلطنت کو سنبھالتے آرہے ہیں اور انہیں طویل عرصے کی سلطنت کا شرف بھی حاصل ہے. بیک وقت سلطان قابوس بن سعید مسلح افواج، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور مرکزی بینک کے چیئرمین کے عملے کے سربراہ بھی ہیں. اِک قدیم ملک ہے.
عُمان کا دوسرا بڑا شہر صلالہ جو صوبہ ظفار میں واقع ہے. شہر صلالہ تاریخ میں پیغمبروں کے شہر کے نام سے مشہور ہے.اِک دلچسپ شہر صلالہ میں تفریح کو بیرون ملک سے لوگ آتے ہیں. آج تک کوئی بھی سلطان کے خلاف نہیں بولا اور نہ ہی عُمان میں بغاوت عوام نے کبھی کی ہے.اسی طرح کچھ اور ممالک بھی اسی طرح سے چلتے آرہے ہیں. خیر یہاں تک تو بات تھی بیرون کی اب اپنے ملک کا بھی تحریری بیان عرض کرنا چاہوں گا.
پاکستان ، اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کہ سن 14 اگست 1947 کو آزاد ریاست بنا. اس کے بانی قائداعظم محمد علی جناح ہیں. یہ ملک سیاسی نظام سے چلتا آرہا ہے, یہاں عوام کو جمہوری لحاظ سے ہر پانچ سال بعد اپنے حکومت میں انتخابات کے ذریعے اپنے ہی پسند کے رہنما چُننے کا حق حاصل ہے. یہ ملک اپنی مثال آپ ہے.
اب میں یہاں اپنے بارے میں بھی بتاتا چلوں, یہاں میں! انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر اپنا ووٹ اپنے ہی پسندیدہ رہنما کو دے کر اُسے منتخب کرتا ہوں پھر اُسی کے خلاف دھرنا دے کر اُس کو مستعفیٰ ہونے کو کہتا ہوں. ایسا ہوں میں کیونکہ مجھے اپنے اوپر بھروسہ ہی نہیں. جمہوریت ہے یہاں عوام کو حق حاصل ہے پر اُسی وقت فیصلہ کرنا بھی تو ہم پر واجب ہے کہ منتخب کریں تو مستحق کو کریں تاکہ پانچ سال شکایت کی زنجیر نہ بنے. پاکستان دُنیا میں سی پیک کے ذریعے تجارتی تاریخ رقم کرنے جارہی ہے جہاں چائنہ سے لمبی دوستی کے بعد درآمد و برآمد کا عمل شروع کیا جائے گا ساتھ ہی دوسرے ممالک بھی اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کرتے نظر آرہے ہیں.
2018 کے انتخابات جو کہ عنقریب ہونے جارہے ہیں ان حالات میں جہاں پاکستان سی پیک جیسے منصوبے کی طرف گامزن ہے، پھر انتخابات بھی تو دلچسپ ہونے ہیں. انتظار ہے انتخابات کا جس میں ہم آئے دنوں نئے سیاستدان دیکھنے کہ خواہش مند ہیں. 1970 سے لے کر 2013 کے انتخابات تک یہی منظر عام رہا ہے جس میں عوام اپنے منتخب کردہ رہنما سے شکوے اور گِلے کرتے آرہے ہیں. ملک کے آنے والے انتخابات کا سُن کر اِک تصوری عالم دل اور دماغ میں چھا جاتا ہے، جہاں نئی حکومت، نئے سیاست دانوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں خوشی سے جُوم اُٹھتا ہوں کہ نئے لوگ نئی حکومت… نا کوئی شکایت نا کوئی شکوے، ایسا ہوگا نیا پاکستان
http://haalhawal.com/dost-jan-noor/2018-elections/



Saturday, June 10, 2017

ادارے کیوں خاموش ہیں؟

ایک دن میں ہزاروں کی تعداد میں اس دُنیائے فانی میں واقعات ہوتے ہیں. ہر واقع ایک سے الگ اور دوسرے سے زیادہ دردناک اور المناک ہوتا ہے.مگر کسی بھی بنی آدم کو اِس بات کا علم تک نہیں, کیونکہ یہ قوم لاشیں اُٹھانا جانتی ہے آواز نہیں. ہر انسان صرف ایک ہی رٹھے پر زندہ ہے “اُسکے ساتھ ہوا میں کیوں مجھے کیا” صرف یہی ایک جُملہ “اُسکے ساتھ ہوا میں کیوں مجھے کیا” جو کہ انسان کو انسانیت سے دور کرتا جارہا ہے. کچھ دن پہلے کابُل میں حملہ ہوا تھا جس میں عورتیں مرد حضرات اور کہیں معصوم بچے اس میں شہید ہوئے تھے, اِس دُنیا کے ہر اِک ملک میں واقعات ہوتے آرہے ہیں روزانہ کی صورت میں کہیں دہشتگردی کھلے عام ہے تو کہیں چوری چھپے.کہیں دہشتگرد پکڑے جاتے ہیں تو کہیں “فرار” ہوجاتے ہیں نامعلوم کی پہچان میں. میرا بھی ایک ویسا ہی ملک ہے جو دہشتگردی کا مارا ہے.خیر!
پاکستان کا صوبہ”بلوچستان ” کے دارالحکومت کوئٹہ کے شاہرہ اسپنی پر ایک مرت حضرت اور ایک عورت کو کُھلے عام سڑک پر نشانہ بنایا, ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں جہاں اُنکے گھر والوں کے آنکھیں شاید اب بھی نم ہوں. جن لوگوں نے یہ حرکت کی وہ تو ہمیشہ کی طرح  فرار ہو گئے اور جونہی پولیس اور ایف سی کا کارواں پہنچا اور پوچھ بوجھ کا سلسلہ شروع ہوگیا.. کچھ لمحات کے بعد اس بات کا بھی پتا چل گیا دو ہزارہ کمیونٹی کے اشخاص تھے پر اس طرح سے قتل وہ بھی مذہب کے نام پر کیا کہوں اب…….. وہی شعیا اور سُنی کے قصے مذہب کا نام اور دہشتگردی کا عمل..مذہب کو بدنام کرنے کی کوششیں..  اِک عورت کی لاش بیچ سڑک پر پڑی لہو سے لت پت..ہم تو کہتے ہیں عورت ماں بہن بیٹی ہے تو یہ کیا ہے؟ کیا ہو رہا ہے؟ کیا کر رہے ہیں سرکاری ادارے؟ میں یہ سوال پوچھتا ہوں سرکار سے کیوں کو لاعمل نہیں ؟  ہر وقت یہ ٹارگٹ کلر (نشانے باز ) آ کر لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر تسلی سی فرار ہوکر قبولیت کا اعلان کر دیتے ہیں.ایک بھی ایسا دن آج تک سُننے کو نہیں آیا کہ کوئی نشانہ باز دہشتگرد ہمارے سرکاری اداروں نے دستگیر کیا ہو. بھرسوں سے ایسے ہی ظلم و ستم ہوتے آ رہے ہیں کچھ عرصہ پہلے وکلا پر کیا ہوا اُنکا کہاں گئے دہشتگرد؟ یہاں کھیل ہے تماشا ہے ملک کا اپنا بھی پرایا ہے. کیاے جی رہے ہو تُم اس ملک میں اب تک یہ نم آنکھوں کہ مظلوم آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں انصاف کا نعرہ. آو اِک جُہد کریں ایسا جہد ایک بے آواز احتجاج کریں جس پہ مجبور ہو کر کوئی سرکاری اداروں کی طرف سے حکمت عملی ہو. آج ملک بھر میں شعیا اور سُنی کے نعرے کو میں کیا سمجھوں …
ہم انصاف کے خواہاں ہیں ہمیں انصاف دو
زیادہ نہ صحیح ہمارے بچھڑوں کا حساب دو
دہشتگرد جہاں کامیاب ہورہے ہیں کیوں ہم اُس کامیابی اے دور ہیں. جناب مذہب کے نام سے عوام کو بلاہ وجہ شہید کیا جارہا ہے, قوم کو تو اس بات کا کوئی شعور تک نہیں آواز اُٹھانے سے پہلے سوچ کی جپھٹ میں گُم ہو جاتا ہے. یہ دُنیا اب اس حال میں بھی دیکھنا پڑے گا کبھی سوچا بھی نہ تھا ہر وقت یہی سوچ کہ کہیں میرے ساتھ کچھ ہو نہ جائے اِسی وجہ سے آواز ءِ حق دب چُکی ہے.
کہاں ہم اور کہاں یہ ساری باتیں یہ وہ قوم ہے جو فروٹ پر بائیکاٹ کرتی ہے پر ظلم و تشدد پر نہیں. ٹی وی تو رمضان ٹرانزمشن بن چُکے ہیں ریٹنگ چل رہی ہے. کیا کیا بتاوں اس ملک میں کیا نہیں ہو رہا. لکھ کر کچھ خاص تو نہیں ہوتا پر ایک پیغام پہنچا سکتا ہوں کہ قوم اب بھی وقت ہے انصاف کو پکارو انصاف خود آئے گی….. اس رمضان کے ماہ میں دعا گو ہیں کہ اللہ ان دہشت گروں کو ہدایت دے اگر ہیں نصیب میں انکے…..

http://haalhawal.com/Story/16429

سی پیک اور بلوچستان کی ترقی کا بے نقاب سایہ

سی پیک اور بلوچستان کی ترقی کا بے نقاب سایہ بلوچستان، ایک خطہ جو اپنی تاریخی وراثت، ثقافت اور اسٹریٹجک اہمیت کے لیے جانا جاتا ہے، ترقی اور ع...